Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Badnam Muhabbat by #RimshaHayatNovels

 

Urdu Nonvillains is a platform for all social media writers. Here you find variety of novels having different plot and concept about life of a human being who faces difficulties in every walk of life. 


Each story has its own moral every story teaches us a new lesson as it contains experience of every human life.


Here you find revenge based, Islamic based, Rude hero, Doctor, Lawyer based with many more exciting tragedies.



Mera Maan Ho Tum is one of the fabulous novel that get attention by readers after reading it you will love this novel. Download this novel by clicking below the given link.



Mera Maan Ho Tum By Aiman Raza



Download



If you have any queries regarding downloading let us know by commenting below. After reading this novel also leave your precious comments below and let us know about your thoughts and novel selection which type of novels would you like to read????? and which type you want to be posted here we will try to bring novels according to your choice of selection. Thanks for Reading!!!!!!


SNEAK PEAK NO: 1

#فصیلِ_عشق 

#رمشا_حیات 

قسط 45

بغیر اجازت کے کاپی پیسٹ کرنا منع ہے 

💞💞💞💞☠️☠️☠️☠️☠️


مجھے تمھاری سمجھ نہیں آتی پل میں تم تولہ ہوتے ہو تو اگلے پل ماشہ زری نے دبیر کو دیکھتے کہا۔


جو آڈر دینے کے بعد زری کو گھور رہا تھا ایسا زری کو لگا تھا ورنہ وہ دیکھتا ہی ایسے تھا۔


آہستہ آہستہ تم مجھے سمجھ جاؤ گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے سمجھنا بہت مشکل ہے۔

لیکن آج تمہیں میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں 

دبیر نے اپنے سامنے پڑے پانی کے گلاس کو سائیڈ پر کرتے ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے کہا۔


میں نے پاشا اور شاہ میر کو مار دیا میں نے اپنی بیوی کا بدلہ لے لیا۔


اب جس کو میں مارنا چاہتا ہوں وہ پاشا یا شاہ میر جیسا بلکل بھی نہیں ہے اور میں نہیں جانتا کہ میں زندہ رہوں گا یا نہیں 


میں بس کچھ وقت تمھارے ساتھ گزرنا چاہتا تھا۔اور آج تمہیں میں اس بات کا حق دیتا ہوں کہ اگر تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہو تو جا سکتی ہو میں وعدہ کرتا ہوں زری میں تمہیں ہرگز نہیں روکوں گا۔


لیکن اگلے کچھ گھنٹے اپنے مجھے دے دوں جو میں تمھارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں کچھ یادیں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ۔

میں تم سے معافی نہیں مانگو گا کیونکہ میں تمھاری معافی کے قابل نہیں ہوں میں خود چاہتا ہوں کہ تم مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ 

دبیر نے گہرا سانس لیتے اپنی بات کو مکمل کرتے کہا۔

اور زری کی طرف دیکھا جو سرخ آنکھوں سے دبیر کو دیکھ اور سن رہی تھی یا شاہد اپنے آنسو کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔


 اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ دبیر اتنی آسانی سے اسے چھوڑنے کی بات کرے گا۔

تم خوش تو ہو گی۔ ہونا بھی چاہیے لیکن بس کچھ گھنٹے میں چاہتا ہوں تمھارے اور ہادی کے ساتھ گزار لوں اُس کے بعد جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا۔

دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔


تم کیا اتنی آسانی سے مجھے چھوڑ دو گے دبیر؟ 

زری نے سنجیدگی سے پوچھا 

دبیر پہلے تو ہنس پڑا پھر زری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

 

جانتی ہو زری پہلے میری سوچ کیسی تھی؟ 

پہلے میں سوچتا تھا کہ اکثر اوقات انسان بے بس نہیں ہوتا بس تھک جاتا ہے, خود سے لوگوں سے اور اُن سب چیزوں سے جو اس کے ارد گرد موجود ہوتی ہیں۔ وہ کہی دور جانا چاہتا ہے ۔

اس لیے میں بھی بھاگ جاتا تھا تاکہ سکون کی زندگی گزار سکوں۔

لیکن اب میں نے ایک بات سیکھ لی ہے بھاگنا ہر مشکل کا حل نہیں ہوتا۔

میں اقرا کو لے کر اس دنیا سے دور بھاگا تھا تو دیکھو کیا نتیجہ نکلا 

میرے پاس اقرا نہیں ہے بلکہ وہ مجھ سے بہت دور جا چکی ہے۔


لیکن اب تمہیں میں زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔کیونکہ مجھے لگتا ہے اگر میں نے ایسا کچھ کیا تو پھر کچھ نا کچھ برا ہو جائے گا۔دبیر نے بچکانہ دلیل پیش کرتے کہا۔


تم. میری ذمہ داری سے فرار ہونا چاہتے ہو دبیر کیونکہ جو تم نے دلیل دی وہ میرے نزدیک زرا بھی اہمیت نہیں رکھتی۔

زری نے طنزیہ لہجے میں کہا۔


تمھاری ذمہ داری سے میں کبھی فرار نہیں ہو سکتا زری بس اتنا سمجھ لو اس بار دبیر ڈر رہا ہے وہ نہیں چاہتا اقرا کی طرح زرتشہ کو بھی کھو دے 

دبیر نے زری سے نظریں چراتے صاف الفاظ میں کہا۔

اس لیے دبیر عباس اپنی بیوی کو کہہ رہا ہے اُس سے دور چلی جائے کیونکہ وہ اُس کی حفاظت نہیں کر سکتا؟ 


زری نے اپنے لہجے میں حیرانگی لاتے پوچھا۔

دبیر زری کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔

انسان ہمیشہ اپنے پسندیدہ انسان کو کھونے سے ڈرتا ہے زری میں بھی اب ڈرتا ہوں اور جو میں نے تمھارے ساتھ کیا تم میرے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہو گی دبیر کہتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔مزید کچھ کہنے کو نہیں تھا۔


کھانا آچکا تھا۔

لیکن زری کی بھوک تو کہی مر گئی تھی اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں اُسے برا لگ رہا ہے۔اُسے تو خوش ہونا چاہیے تھا۔

جو کچھ دبیر نے اس کے ساتھ کیا وہ کیسے اس کے ساتھ رہ سکتی ہے؟ 


لیکن ان سب باتوں میں اس کے دل کی آواز تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھی جسے وہ سننا نہیں چاہتی تھی۔


کھانا کھاؤ دبیر نے کھانے کی طرف اشارہ کرتے زری کو کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور بے دلی سے کھانا کھانے لگی۔


دبیر اس کے بعد نارملی اس سے بات کر رہا تھا جس کا جواب وہ ہوں یا ہاں میں دے رہی تھی۔


💞 💞 💞 💞 💞 

 

کچھ دن پہلے… 

رانا اپنی بیٹی اور بیٹے کو ملک سے باہر تو لے آیا تھا لیکن ذیشان کو کسی بھی طرح سکون نہیں مل رہا تھا۔

 وہ دبیر اور فاز سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور اس میں اس نے اپنی گرل فرینڈ ایما سے مدد لی تھی جو مان بھی گئی تھی۔


ذیشان نے رانا کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

اس نے فاز پر نظر رکھی اور ایما کو اپنے پلان کے بارے میں بتایا۔

وہ فاز کی گاڑی کے سامنے خود آئی تھی۔

ذیشان نے اسے کہا تھا کہ اپنا نام مریم بتائے۔ایما ویسا ہی کر رہی تھی جیسا ذیشان نے کرنے کو کہا تھا۔


اور اب اس نے وہ تمام تصاویر فاز کے کمرے میں رکھنی تھی۔جو ذیشان نے دبیر کے گھر پارسل کروائی تھیں ایما ذیشان کو گھر کا ایڈریس بتا چکی تھی۔


ایما کی قسمت اچھی تھی کہ نا گھر پر فاز تھا اور نا ہی دبیر مصطفیٰ بھی رانی کے ساتھ باہر گیا تھا۔


ایما اور ذیشان کو لگا تھا یہ سب اُن کا پلان ہے لیکن ابھی شاید وہ دونوں دبیر کو جانتے نہیں تھے کہ وہ کیا چیز ہے اُس کے گھر تل پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا۔


ایما نے وہ تمام تصاویر فاز کے کمرے کی سائیڈ ڈرا میں رکھ دی تھیں۔


اب اسے مریم اور فاز کے واپس آنے کا انتظار کرنا تھا۔

وہ پورے گھر کو دیکھ چکی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں پر ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔

ایما دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی تھی۔


💞 💞 💞 💞 💞 


فاز اور مریم گھر آئے تو مریم اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔فاز نے نغمہ بیگم سے اُس لڑکی کے بارے میں پوچھا جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے اور تمھارے بارے میں پوچھ رہی تھی شاید کوئی بات کرنی ہے۔


فاز نے نغمہ بیگم کی بات سنی اور ایما کے کمرے کی طرف چلا گیا۔

فاز نے دروازہ ناک کیا اور کمرے میں داخل ہوا۔لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔


فاز نے ایک نظر واشروم کے دروازے کی طرف ڈالی اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گیا۔


ایما جو فاز کا ہی انتظار کر ہی تھی جلدی سے باہر آئی کیونکہ وہ نغمہ بیگم کے پاس بیٹھی کافی دیر تک باتیں کرتے رہی تھی اور اس نے کہا تھا کہ جب فاز آئے تو اُسے کہہ دینا آپ کہ میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے۔


روکیں ایما نے پیچھے سے فاز کو آواز دیتے کہا۔جس نے مڑ کر ایما کی طرف دیکھا جو اس وقت باتھ روب میں موجود تھی۔


جو اس کے ٹخنوں سے کافی اونچا تھا۔

فاز نے ایک نظر دیکھ کر اپنی نظریں دوسری جانب پھیر لیں تھیں۔


میں بعد میں آتا ہوں فاز نے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔

 نہیں مجھے آپ سے ابھی ایک ضروری بات کرنی ہے ایما نے کہتے ہی کچھ قدموں کا فاصلہ طے کیا اور فاز کو بازو سے پکڑ لیا۔


فاز نے غصے سے ایما کے بازو جھٹکا جو اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پائی اور گرنے لگی 

گرتے وقت اس نے فاز کی شرٹ کو کالر سے تھام لیا تھا۔


ناچاہتے ہوئے بھی فاز نے اسے کمرے سے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔اور اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔


فاز نے سامنے دیکھا تو مریم کھڑی تھی 

جو اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور سائیڈ ڈرا سے اپنے موبائل کا چارجر نکالنے لگی اور اچانک اس کی نظر تصاویر پر پڑی۔


مریم نے اُن تصاویر کو دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ وہ تصاویر کچھ اس طرح کا نظارہ پیش کر رہی تھیں کہ کسی کو بھی غلط فہمی ہو سکتی ہے تھی۔


مریم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اُن میں سے ایک تصویر کو لے کر کمرے سے باہر گئی۔

 نغمہ بیگم سے معلوم ہوا کہ فاز اُسی لڑکی کے کمرے میں گیا ہے۔

مریم کو غصے کے ساتھ رونا بھی آرہا تھا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ایما اور فاز کو جس حالت میں دیکھا وہ نا چاہتے ہوئے بھی مریم کے دل میں شک پیدا کر گیا تھا۔


یہ سب کیا ہے فاز؟ مریم نے آنکھوں میں بے یقینی لیے سامنے کھڑے فاز کی بانہوں میں کھڑی لڑکی کو دیکھتے پوچھا۔


جو خود صورتحال سے ایک دم بوکھلا گیا تھا۔

اس نے جلدی سے لڑکی کی کمر سے ہاتھ ہٹائے جو سیدھی کھڑی ہو گئی تھی۔


مریم جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے۔

فاز نے مریم کی طرف اپنے قدم بڑھاتے اسے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔


جس نے فاز کو ہاتھ کے اشارے سے وہی رکنے کا اشارہ کیا تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو فاز کو تکلیف سے دوچار کر رہے تھے۔

وہ جانتا تھا کہ جو مریم نے دیکھا وہ سب دیکھ کر غلط سمجھ رہی ہے۔


پیچھے کھڑی ایما اپنے منصوبے میں کامیاب ہوتے اب تماشا دیکھ رہی تھی۔


کیا یہ بھی میری نظروں کا دھوکہ ہے؟ 

مریم نے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو فاز کی طرف اچھالتے بےبسی سے کہا۔


فاز نے ایک نظر تصویر پر ڈالی جس میں فاز نے اُسی لڑکی کو کمر سے پکڑا ہوا تھا اور تصویر کچھ اس انداز میں لی ہوئی تھی کہ کوئی بھی ان دونوں کو دیکھ کر غلط سمجھ سکتا تھا۔

فاز نے جھک کر تصویر کو اٹھایا۔


مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی فاز اور مجھے اب پتہ چلا اُس دن آپ سچ بول رہے تھے کہ اُس رات آپ کسی لڑکی کے ساتھ ہی تھے۔


میں ہی کم عقل تھی جو سمجھ نہیں پائی 

مریم نے اپنی گال پر بہتے آنسو کو رگڑتے کپکپاتے لہجے میں کہا۔

فاز جانتا تھا مریم اس سے بہت زیادہ بدگمان ہو گئی ہے اس وقت اسے کچھ بھی کہنا بے کار تھا اس لیے خاموش رہا۔

مریم پھر وہاں رکی نہیں تھی اور وہاں سے چلی گئی۔


پیچھے کھڑی ایما نے فاز کے سامنے آتے کچھ کہنا چاہا لیکن فاز نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا۔

اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

بہت برا ہوا ایما نے افسردگی سے کہا اور کھلکھلا کر ہنس پڑی۔


💞 💞 💞 💞 💞 

 

دبیر اور زری ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہے تھے جب سامنے سے آتے کبیر کو دیکھ کر وہی رک گئے۔


السلام علیکم بھابھی جی کیسی ہیں آپ؟ 

کبیر نے شرافت سے زری کو سلام کیا۔


جس کا جواب زری نے خوشدلی سے دیا تھا۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ 

دبیر نے کبیر کو گھورتے ہوئے پوچھا۔


ڈیٹ مارنے آیا تھا۔کبیر نے سنجیدگی سے کہا 

زری کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا تھا۔


کبیر بھائی ویسے آپ کو شرم آنی چاہیے اتنی پیاری بیوی ہے آپ کی پھر بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں آپ مجھے جان کر بہت افسوس ہوا 

زری نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔

 پہلے ہی اس کا دل اداس تھا اب نور کو سوچ کر مزید اداس ہو گیا تھا۔


کبیر نے حیرانگی سے دبیر کو دیکھا جو مزے سے کھڑا ہنس رہا تھا۔

ابھی گھر جاتے ہی. میری بیوی نے تمھاری بیوی کو کال کرنی ہے اور تمھاری اس عظیم ڈیٹ کے بارے میں اُسے بتا دینا ہے پھر تم ہو گے اور بڑے پاپا 


آہ کیا منظر ہو گا میں مس کر دوں گا۔

دبیر نے کبیر کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔


بھابھی میں مزاح کر رہا تھا یار تو سمجھا نا اپنی بیوی کو میں ایک کام کے سلسلے میں یہاں آیا تھا۔


کبیر نے دبیر کو دیکھتے دانت پیستے کہا۔

جس نے کندھے آچکا دیے تھے جیسے کہہ رہا ہو میں کچھ نہیں کر سکتا۔


کبیر نے کھا جانے والی نظروں سے دبیر کو دیکھا تھا۔

آپ سچ بول رہے ہیں؟ زری نے کنفرم کرنا چاہا 

جی بلکل میں اپنی بہن سے کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں کبیر نے جلدی سے میٹھے لہجے میں کہا۔


ہاں وہی میں سوچ رہی تھی کہ آپ شکل سے ایسے لگتے تو نہیں ہیں 

زری نے کہا۔


شکریہ کبیر نے سینہ چوڑا کرتے کہا۔

زری وہ سامنے ہماری گاڑی کھڑی ہے تم جا کر بیٹھو میں آتا ہوں دبیر نے زری کو دیکھتے کہا۔جس نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔


تم جانتے ہو ذیشان واپس آگیا ہے اور وہ تم سے اور فاز سے بدلہ لینا چاہتا ہے اُس نے آفندی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔


ہاں جانتا ہوں مجھے بھی تھوڑی دیر پہلے پتہ چل گیا تھا۔

 مجھے بس اُس لڑکی کے بارے میں معلوم کروانا تھا کہ اُسے آفندی نے بھیجا ہے یا کسی اور نے اور مجھے اب پتہ چل گیا ہے کہ اُسے ذیشان نے بھیجا ہے۔


دبیر نے سامنے گاڑی میں بیٹھی زری کو دیکھتے کہا اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔


لیکن فاز کو اُسے گھر میں نہیں لانا چاہیے تھا میں تمہیں کال ہی کرنے والا تھا اُس لڑکی کو ایک پارسل ملا ہے۔


میں نے گارڈز کو کہہ دیا تھا کہ پارسل والے سے کسی قسم کی کوئی بات نا پوچھی جائے۔

اور وہ آدمی اُس لڑکی کو پارسل دے کر چلا گیا۔


لیکن مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ذیشان میاں بیوی میں لڑائی کیوں کروانا چاہتا ہے؟ 

کبیر نے حیرانگی سے پوچھا۔


مجھے بھی معلوم ہے کہ اُس نے ایک پارسل رسیو کیا ہے میری نظر اُسی پر ہے۔

اور جہاں تک بات ہے میاں بیوی کے جھگڑے کی تو ذیشان جانتا ہے کس طرح فاز کو کمزور کرنا ہے۔


بہرحال ابھی تھوڑی دیر تک مجھے فاز کی کال آئے گی 

دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔


واہ تم تو سب کچھ جانتے ہو کبیر نے متاثر ہوتے کہا۔


جاننا پڑتا ہے اب میں چلتا ہوں تم اپنی ڈیٹ انجوائے کرو دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

#فصیلِ_عشق 

#رمشا_حیات 

قسط 45

بغیر اجازت کے کاپی پیسٹ کرنا منع ہے 

💞💞💞💞☠️☠️☠️☠️☠️


مجھے تمھاری سمجھ نہیں آتی پل میں تم تولہ ہوتے ہو تو اگلے پل ماشہ زری نے دبیر کو دیکھتے کہا۔


جو آڈر دینے کے بعد زری کو گھور رہا تھا ایسا زری کو لگا تھا ورنہ وہ دیکھتا ہی ایسے تھا۔


آہستہ آہستہ تم مجھے سمجھ جاؤ گی لیکن مجھے لگتا ہے کہ مجھے سمجھنا بہت مشکل ہے۔

لیکن آج تمہیں میں ایک بات بتانا چاہتا ہوں 

دبیر نے اپنے سامنے پڑے پانی کے گلاس کو سائیڈ پر کرتے ٹیبل پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے کہا۔


میں نے پاشا اور شاہ میر کو مار دیا میں نے اپنی بیوی کا بدلہ لے لیا۔


اب جس کو میں مارنا چاہتا ہوں وہ پاشا یا شاہ میر جیسا بلکل بھی نہیں ہے اور میں نہیں جانتا کہ میں زندہ رہوں گا یا نہیں 


میں بس کچھ وقت تمھارے ساتھ گزرنا چاہتا تھا۔اور آج تمہیں میں اس بات کا حق دیتا ہوں کہ اگر تم مجھے چھوڑ کر جانا چاہو تو جا سکتی ہو میں وعدہ کرتا ہوں زری میں تمہیں ہرگز نہیں روکوں گا۔


لیکن اگلے کچھ گھنٹے اپنے مجھے دے دوں جو میں تمھارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں کچھ یادیں اپنے پاس رکھنا چاہتا ہوں ۔

میں تم سے معافی نہیں مانگو گا کیونکہ میں تمھاری معافی کے قابل نہیں ہوں میں خود چاہتا ہوں کہ تم مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ 

دبیر نے گہرا سانس لیتے اپنی بات کو مکمل کرتے کہا۔

اور زری کی طرف دیکھا جو سرخ آنکھوں سے دبیر کو دیکھ اور سن رہی تھی یا شاہد اپنے آنسو کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔


 اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ دبیر اتنی آسانی سے اسے چھوڑنے کی بات کرے گا۔

تم خوش تو ہو گی۔ ہونا بھی چاہیے لیکن بس کچھ گھنٹے میں چاہتا ہوں تمھارے اور ہادی کے ساتھ گزار لوں اُس کے بعد جیسا تم چاہو گی ویسا ہی ہو گا۔

دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔


تم کیا اتنی آسانی سے مجھے چھوڑ دو گے دبیر؟ 

زری نے سنجیدگی سے پوچھا 

دبیر پہلے تو ہنس پڑا پھر زری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

 

جانتی ہو زری پہلے میری سوچ کیسی تھی؟ 

پہلے میں سوچتا تھا کہ اکثر اوقات انسان بے بس نہیں ہوتا بس تھک جاتا ہے, خود سے لوگوں سے اور اُن سب چیزوں سے جو اس کے ارد گرد موجود ہوتی ہیں۔ وہ کہی دور جانا چاہتا ہے ۔

اس لیے میں بھی بھاگ جاتا تھا تاکہ سکون کی زندگی گزار سکوں۔

لیکن اب میں نے ایک بات سیکھ لی ہے بھاگنا ہر مشکل کا حل نہیں ہوتا۔

میں اقرا کو لے کر اس دنیا سے دور بھاگا تھا تو دیکھو کیا نتیجہ نکلا 

میرے پاس اقرا نہیں ہے بلکہ وہ مجھ سے بہت دور جا چکی ہے۔


لیکن اب تمہیں میں زبردستی اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔کیونکہ مجھے لگتا ہے اگر میں نے ایسا کچھ کیا تو پھر کچھ نا کچھ برا ہو جائے گا۔دبیر نے بچکانہ دلیل پیش کرتے کہا۔


تم. میری ذمہ داری سے فرار ہونا چاہتے ہو دبیر کیونکہ جو تم نے دلیل دی وہ میرے نزدیک زرا بھی اہمیت نہیں رکھتی۔

زری نے طنزیہ لہجے میں کہا۔


تمھاری ذمہ داری سے میں کبھی فرار نہیں ہو سکتا زری بس اتنا سمجھ لو اس بار دبیر ڈر رہا ہے وہ نہیں چاہتا اقرا کی طرح زرتشہ کو بھی کھو دے 

دبیر نے زری سے نظریں چراتے صاف الفاظ میں کہا۔

اس لیے دبیر عباس اپنی بیوی کو کہہ رہا ہے اُس سے دور چلی جائے کیونکہ وہ اُس کی حفاظت نہیں کر سکتا؟ 


زری نے اپنے لہجے میں حیرانگی لاتے پوچھا۔

دبیر زری کی بات سن کر مسکرا پڑا تھا۔

انسان ہمیشہ اپنے پسندیدہ انسان کو کھونے سے ڈرتا ہے زری میں بھی اب ڈرتا ہوں اور جو میں نے تمھارے ساتھ کیا تم میرے ساتھ رہنا بھی نہیں چاہو گی دبیر کہتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔مزید کچھ کہنے کو نہیں تھا۔


کھانا آچکا تھا۔

لیکن زری کی بھوک تو کہی مر گئی تھی اسے خود بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیوں اُسے برا لگ رہا ہے۔اُسے تو خوش ہونا چاہیے تھا۔

جو کچھ دبیر نے اس کے ساتھ کیا وہ کیسے اس کے ساتھ رہ سکتی ہے؟ 


لیکن ان سب باتوں میں اس کے دل کی آواز تو کچھ اور ہی کہہ رہی تھی جسے وہ سننا نہیں چاہتی تھی۔


کھانا کھاؤ دبیر نے کھانے کی طرف اشارہ کرتے زری کو کہا جس نے اثبات میں سر ہلایا اور بے دلی سے کھانا کھانے لگی۔


دبیر اس کے بعد نارملی اس سے بات کر رہا تھا جس کا جواب وہ ہوں یا ہاں میں دے رہی تھی۔


💞 💞 💞 💞 💞 

 

کچھ دن پہلے… 

رانا اپنی بیٹی اور بیٹے کو ملک سے باہر تو لے آیا تھا لیکن ذیشان کو کسی بھی طرح سکون نہیں مل رہا تھا۔

 وہ دبیر اور فاز سے بدلہ لینا چاہتا تھا اور اس میں اس نے اپنی گرل فرینڈ ایما سے مدد لی تھی جو مان بھی گئی تھی۔


ذیشان نے رانا کو اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

اس نے فاز پر نظر رکھی اور ایما کو اپنے پلان کے بارے میں بتایا۔

وہ فاز کی گاڑی کے سامنے خود آئی تھی۔

ذیشان نے اسے کہا تھا کہ اپنا نام مریم بتائے۔ایما ویسا ہی کر رہی تھی جیسا ذیشان نے کرنے کو کہا تھا۔


اور اب اس نے وہ تمام تصاویر فاز کے کمرے میں رکھنی تھی۔جو ذیشان نے دبیر کے گھر پارسل کروائی تھیں ایما ذیشان کو گھر کا ایڈریس بتا چکی تھی۔


ایما کی قسمت اچھی تھی کہ نا گھر پر فاز تھا اور نا ہی دبیر مصطفیٰ بھی رانی کے ساتھ باہر گیا تھا۔


ایما اور ذیشان کو لگا تھا یہ سب اُن کا پلان ہے لیکن ابھی شاید وہ دونوں دبیر کو جانتے نہیں تھے کہ وہ کیا چیز ہے اُس کے گھر تل پہنچنا اتنا آسان نہیں تھا۔


ایما نے وہ تمام تصاویر فاز کے کمرے کی سائیڈ ڈرا میں رکھ دی تھیں۔


اب اسے مریم اور فاز کے واپس آنے کا انتظار کرنا تھا۔

وہ پورے گھر کو دیکھ چکی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہاں پر ہر جگہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔

ایما دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئی تھی۔


💞 💞 💞 💞 💞 


فاز اور مریم گھر آئے تو مریم اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔فاز نے نغمہ بیگم سے اُس لڑکی کے بارے میں پوچھا جنہوں نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے اور تمھارے بارے میں پوچھ رہی تھی شاید کوئی بات کرنی ہے۔


فاز نے نغمہ بیگم کی بات سنی اور ایما کے کمرے کی طرف چلا گیا۔

فاز نے دروازہ ناک کیا اور کمرے میں داخل ہوا۔لیکن کمرے میں کوئی نہیں تھا واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی۔


فاز نے ایک نظر واشروم کے دروازے کی طرف ڈالی اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گیا۔


ایما جو فاز کا ہی انتظار کر ہی تھی جلدی سے باہر آئی کیونکہ وہ نغمہ بیگم کے پاس بیٹھی کافی دیر تک باتیں کرتے رہی تھی اور اس نے کہا تھا کہ جب فاز آئے تو اُسے کہہ دینا آپ کہ میں نے ایک ضروری بات کرنی ہے۔


روکیں ایما نے پیچھے سے فاز کو آواز دیتے کہا۔جس نے مڑ کر ایما کی طرف دیکھا جو اس وقت باتھ روب میں موجود تھی۔


جو اس کے ٹخنوں سے کافی اونچا تھا۔

فاز نے ایک نظر دیکھ کر اپنی نظریں دوسری جانب پھیر لیں تھیں۔


میں بعد میں آتا ہوں فاز نے کہا اور وہاں سے جانے لگا۔

 نہیں مجھے آپ سے ابھی ایک ضروری بات کرنی ہے ایما نے کہتے ہی کچھ قدموں کا فاصلہ طے کیا اور فاز کو بازو سے پکڑ لیا۔


فاز نے غصے سے ایما کے بازو جھٹکا جو اپنا متوازن برقرار نہیں رکھ پائی اور گرنے لگی 

گرتے وقت اس نے فاز کی شرٹ کو کالر سے تھام لیا تھا۔


ناچاہتے ہوئے بھی فاز نے اسے کمرے سے پکڑ کر گرنے سے بچایا۔اور اسی وقت کمرے کا دروازہ کھلا تھا۔


فاز نے سامنے دیکھا تو مریم کھڑی تھی 

جو اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور سائیڈ ڈرا سے اپنے موبائل کا چارجر نکالنے لگی اور اچانک اس کی نظر تصاویر پر پڑی۔


مریم نے اُن تصاویر کو دیکھا تو حیران رہ گئی کیونکہ وہ تصاویر کچھ اس طرح کا نظارہ پیش کر رہی تھیں کہ کسی کو بھی غلط فہمی ہو سکتی ہے تھی۔


مریم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اُن میں سے ایک تصویر کو لے کر کمرے سے باہر گئی۔

 نغمہ بیگم سے معلوم ہوا کہ فاز اُسی لڑکی کے کمرے میں گیا ہے۔

مریم کو غصے کے ساتھ رونا بھی آرہا تھا اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ایما اور فاز کو جس حالت میں دیکھا وہ نا چاہتے ہوئے بھی مریم کے دل میں شک پیدا کر گیا تھا۔


یہ سب کیا ہے فاز؟ مریم نے آنکھوں میں بے یقینی لیے سامنے کھڑے فاز کی بانہوں میں کھڑی لڑکی کو دیکھتے پوچھا۔


جو خود صورتحال سے ایک دم بوکھلا گیا تھا۔

اس نے جلدی سے لڑکی کی کمر سے ہاتھ ہٹائے جو سیدھی کھڑی ہو گئی تھی۔


مریم جیسا تم سمجھ رہی ہو ویسا کچھ نہیں ہے۔

فاز نے مریم کی طرف اپنے قدم بڑھاتے اسے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔


جس نے فاز کو ہاتھ کے اشارے سے وہی رکنے کا اشارہ کیا تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسو فاز کو تکلیف سے دوچار کر رہے تھے۔

وہ جانتا تھا کہ جو مریم نے دیکھا وہ سب دیکھ کر غلط سمجھ رہی ہے۔


پیچھے کھڑی ایما اپنے منصوبے میں کامیاب ہوتے اب تماشا دیکھ رہی تھی۔


کیا یہ بھی میری نظروں کا دھوکہ ہے؟ 

مریم نے ہاتھ میں پکڑی تصویر کو فاز کی طرف اچھالتے بےبسی سے کہا۔


فاز نے ایک نظر تصویر پر ڈالی جس میں فاز نے اُسی لڑکی کو کمر سے پکڑا ہوا تھا اور تصویر کچھ اس انداز میں لی ہوئی تھی کہ کوئی بھی ان دونوں کو دیکھ کر غلط سمجھ سکتا تھا۔

فاز نے جھک کر تصویر کو اٹھایا۔


مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی فاز اور مجھے اب پتہ چلا اُس دن آپ سچ بول رہے تھے کہ اُس رات آپ کسی لڑکی کے ساتھ ہی تھے۔


میں ہی کم عقل تھی جو سمجھ نہیں پائی 

مریم نے اپنی گال پر بہتے آنسو کو رگڑتے کپکپاتے لہجے میں کہا۔

فاز جانتا تھا مریم اس سے بہت زیادہ بدگمان ہو گئی ہے اس وقت اسے کچھ بھی کہنا بے کار تھا اس لیے خاموش رہا۔

مریم پھر وہاں رکی نہیں تھی اور وہاں سے چلی گئی۔


پیچھے کھڑی ایما نے فاز کے سامنے آتے کچھ کہنا چاہا لیکن فاز نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا تھا۔

اور کمرے سے باہر نکل گیا۔

بہت برا ہوا ایما نے افسردگی سے کہا اور کھلکھلا کر ہنس پڑی۔


💞 💞 💞 💞 💞 

 

دبیر اور زری ریسٹورنٹ سے باہر نکل رہے تھے جب سامنے سے آتے کبیر کو دیکھ کر وہی رک گئے۔


السلام علیکم بھابھی جی کیسی ہیں آپ؟ 

کبیر نے شرافت سے زری کو سلام کیا۔


جس کا جواب زری نے خوشدلی سے دیا تھا۔

تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ 

دبیر نے کبیر کو گھورتے ہوئے پوچھا۔


ڈیٹ مارنے آیا تھا۔کبیر نے سنجیدگی سے کہا 

زری کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا تھا۔


کبیر بھائی ویسے آپ کو شرم آنی چاہیے اتنی پیاری بیوی ہے آپ کی پھر بھی ایسی حرکتیں کرتے ہیں آپ مجھے جان کر بہت افسوس ہوا 

زری نے نفی میں سر ہلاتے کہا۔

 پہلے ہی اس کا دل اداس تھا اب نور کو سوچ کر مزید اداس ہو گیا تھا۔


کبیر نے حیرانگی سے دبیر کو دیکھا جو مزے سے کھڑا ہنس رہا تھا۔

ابھی گھر جاتے ہی. میری بیوی نے تمھاری بیوی کو کال کرنی ہے اور تمھاری اس عظیم ڈیٹ کے بارے میں اُسے بتا دینا ہے پھر تم ہو گے اور بڑے پاپا 


آہ کیا منظر ہو گا میں مس کر دوں گا۔

دبیر نے کبیر کی طرف جھکتے ہوئے کہا۔


بھابھی میں مزاح کر رہا تھا یار تو سمجھا نا اپنی بیوی کو میں ایک کام کے سلسلے میں یہاں آیا تھا۔


کبیر نے دبیر کو دیکھتے دانت پیستے کہا۔

جس نے کندھے آچکا دیے تھے جیسے کہہ رہا ہو میں کچھ نہیں کر سکتا۔


کبیر نے کھا جانے والی نظروں سے دبیر کو دیکھا تھا۔

آپ سچ بول رہے ہیں؟ زری نے کنفرم کرنا چاہا 

جی بلکل میں اپنی بہن سے کیسے جھوٹ بول سکتا ہوں کبیر نے جلدی سے میٹھے لہجے میں کہا۔


ہاں وہی میں سوچ رہی تھی کہ آپ شکل سے ایسے لگتے تو نہیں ہیں 

زری نے کہا۔


شکریہ کبیر نے سینہ چوڑا کرتے کہا۔

زری وہ سامنے ہماری گاڑی کھڑی ہے تم جا کر بیٹھو میں آتا ہوں دبیر نے زری کو دیکھتے کہا۔جس نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلی گئی۔


تم جانتے ہو ذیشان واپس آگیا ہے اور وہ تم سے اور فاز سے بدلہ لینا چاہتا ہے اُس نے آفندی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے کبیر نے سنجیدگی سے کہا۔


ہاں جانتا ہوں مجھے بھی تھوڑی دیر پہلے پتہ چل گیا تھا۔

 مجھے بس اُس لڑکی کے بارے میں معلوم کروانا تھا کہ اُسے آفندی نے بھیجا ہے یا کسی اور نے اور مجھے اب پتہ چل گیا ہے کہ اُسے ذیشان نے بھیجا ہے۔


دبیر نے سامنے گاڑی میں بیٹھی زری کو دیکھتے کہا اور اپنی جیب سے سگریٹ نکال کر سلگانے لگا۔


لیکن فاز کو اُسے گھر میں نہیں لانا چاہیے تھا میں تمہیں کال ہی کرنے والا تھا اُس لڑکی کو ایک پارسل ملا ہے۔


میں نے گارڈز کو کہہ دیا تھا کہ پارسل والے سے کسی قسم کی کوئی بات نا پوچھی جائے۔

اور وہ آدمی اُس لڑکی کو پارسل دے کر چلا گیا۔


لیکن مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ ذیشان میاں بیوی میں لڑائی کیوں کروانا چاہتا ہے؟ 

کبیر نے حیرانگی سے پوچھا۔


مجھے بھی معلوم ہے کہ اُس نے ایک پارسل رسیو کیا ہے میری نظر اُسی پر ہے۔

اور جہاں تک بات ہے میاں بیوی کے جھگڑے کی تو ذیشان جانتا ہے کس طرح فاز کو کمزور کرنا ہے۔


بہرحال ابھی تھوڑی دیر تک مجھے فاز کی کال آئے گی 

دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا۔


واہ تم تو سب کچھ جانتے ہو کبیر نے متاثر ہوتے کہا۔


جاننا پڑتا ہے اب میں چلتا ہوں تم اپنی ڈیٹ انجوائے کرو دبیر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

کبیر نے اسے گھور کر دیکھا اور دبیر کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر اندر چلا گیا ۔

دبیر اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا تھا۔


💞 💞 💞 💞 💞 


Kesi lagi epi next epi second last epi ho gi 

Like kare enjoy kare or khush rahen💞💞کبیر نے اسے گھور کر دیکھا اور دبیر کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر اندر چلا گیا ۔

دبیر اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا تھا۔


💞 💞 💞 💞 💞 


Kesi lagi epi next epi second last epi ho gi 

Like kare enjoy kare or khush rahen💞💞

Post a Comment

0 Comments