Urdu Nonvillains is a platform for all social media writers. Here you find variety of novels having different plot and concept about life of a human being who faces difficulties in every walk of life.
Each story has its own moral every story teaches us a new lesson as it contains experience of every human life.
Here you find revenge based, Islamic based, Rude hero, Doctor, Lawyer based with many more exciting tragedies.
Mera Maan Ho Tum is one of the fabulous novel that get attention by readers after reading it you will love this novel. Download this novel by clicking below the given link.
Mera Maan Ho Tum By Aiman Raza
If you have any queries regarding downloading let us know by commenting below. After reading this novel also leave your precious comments below and let us know about your thoughts and novel selection which type of novels would you like to read????? and which type you want to be posted here we will try to bring novels according to your choice of selection. Thanks for Reading!!!!!!
SNEAK PEAK NO: 1
عینی بیڈ پر اوندھے منہ گری اپنا تکیہ آنسوؤں سے بھگو رہی تھی۔
آخر وہ اتنی بڑی کوتاہی کیسے کر گئی ارمان کو سمجھنے میں اسنے کہاں غلطی کی۔
اسکا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔
اچانک اس کے ذہن میں جھماکا ہوا۔
عینی کو یاد آیا کہ ارمان نے کہا تھا وہ بھی چچی کے قاتلوں کا پتا لگوا رہا تھا تو کیا وہ مجھے دھوکا نہیں دے رہا ؟کیا وہ بھی میری طرح اس راز کو سلجھانے کے چکروں میں ہے؟آخر وہ اپنی محبت پر شک کیسے کر سکتی ہے۔اب غصہ چھٹا تو اس کا دماغ تمام پہلوؤں پر غور کرنے لگا۔جو بھی ہو ارمان کی محبت پر اسے اب بھی اندھا یقین تھا۔
وہ اٹھی اور وضو کر کہ اپنے رب کے حضور جھک گئی بےشک وہ ہی سہی رستہ دکھانے والا اور ہدایت دینے والا ہے۔
اب عینی کو احمد صاحب سے اپنے رویے پر پشیمانی ہو رہی تھی۔
کیسے وہ انکو اتنی باتیں سنا گئی جو بھی تھا تھے تو وہ اسکے باپ ہی نا اپنی ماں سے بے وفائی کا غبار بھی وہ ان پر نکال گئی۔
پالا نا سہی پر دنیا میں لانے کا سبب تو وہی تھے اور عینی مانتی یا نہیں مگر وہ اندر سے اب بھی انسے بےتہاشا محبت کرتی تھی اور ان سے بھی محبت چاہتی تھی۔تبھی تو ہر نماز میں انکی لمبی عمر اور صحتیابی کی دعا کرتی تھی۔
عینی کو جتنا پچھتاوا ہوتا اتنا کم تھا مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
یااللہ تو تو سب دلوں کے حال جانتا ہے۔میری کوتاہیوں کو معاف کرنا ۔میری وجہ سے میرے باپ کا کتنا دل دکھا اور میں ان پر تنظوں کے نشتر چلاتی رہی یااللّٰہ مجھ پر رحم فرما ۔مجھے انے والے حالات کے لیے حوصلہ دینا۔میرے بابا جان آج ہماری وجہ سے پریشان ہیں ان کی پریشانی دور فرمانا ۔ہمیں ہمت دینا کہ جو ہم نے فیصلہ کیا ہے ہم اس ہر قائم رہ سکیں عینی نے دعا کی اور سجدے میں چلے گئی ۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ عینی نے کیا سوچا ہے اب آگے کیا ہونے والا ہے۔
SNEAK PEAK NO: 2
"تو تم جیت ہی گئے"
عینی نے ارمان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
ارمان کو عینی کی بات پر افسوس ہوا کہ وہ اپنی بے جا نفرت میں اس کی بے پناہ محبت کو بھی بھول چکی تھی۔
بہت دل کر رہا تھا نہ ہمیں اس شاندار حویلی میں قید کرنے کا۔ اس نے سب پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔
مبارک ہو اب تو ہم تم لوگوں کے بیچ آ رہے ہیں۔ عینی نے پراسرار لہجے میں کہا۔
یہی چاہتے تھے نہ تم لوگ لیکن اب یاد رکھنا با خدا تم لوگوں میں سے ایک ایک کو خون کے آنسو نہ رلایا تو پھر کہنا۔
عینی نے باری باری سب پر کڑی نگاہ ڈالتے کہا۔
so please welcome me
oh sorry....
ہمیں تو آپ لوگوں کو کہنا چاہیے.
Welcome to hell.
کیونکہ ہمارے آنے کے بعد آپ لوگوں کا جینا دو بھر ہو جائے گا عینی کی آنکھوں سے نفرت کی چنگاریاں نکل رہی تھی.
ارمان نے کندھے اچکائے دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے ۔
"تمہاری کھوکھلی نفرت یا میری سالوں پر محیط گاڑھی محبت"
ہنہہہ عینی نے تنفر سے سر جھٹکا.
"پیار ہو یا نفرت ہم دونوں ہی بے حد کرتی ہیں اسکے لہجے میں برف کی سی ٹھنڈک تھی"
دونوں ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کچھ لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
ایک کی آنکھوں میں نفرت تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں محبت کا بےپناہ ٹھاٹھے مارتا سمندر۔
عینی نے سر جھٹکا اور علی کے ساتھ تیزی سے نکلتی چلی گئی۔
اس کے جانے کے بعد سب لوگ منتشر ہوگئے اور ارمان ناک کی سیدھ میں چلتا ہوا اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔
سب ہی ایک دم پریشان نظر آنے لگے تھے۔
کوئی خوش تھا تو صرف احمد شہ اور انکی بیگم رقعیہ
0 Comments