SNEAK PEAK NO: 1
تو تم جیت ہی گئے" عینی نے ارمان کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ارمان کو عینی کی بات پر افسوس ہوا کہ وہ اپنی بے جا نفرت میں اس کی بے پناہ محبت کو بھی بھول چکی تھی۔ بہت دل کر رہا تھا نہ ہمیں اس شاندار حویلی میں قید کرنے کا۔ اس نے سب پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا۔ مبارک ہو اب تو ہم تم لوگوں کے بیچ آ رہے ہیں۔ عینی نے پراسرار لہجے میں کہا۔ یہی چاہتے تھے نہ تم لوگ لیکن اب یاد رکھنا با خدا تم لوگوں میں سے ایک ایک کو خون کے آنسو نہ رلایا تو پھر کہنا۔ عینی نے باری باری سب پر کڑی نگاہ ڈالتے کہا۔ so please welcome me oh sorry.... ہمیں تو آپ لوگوں کو کہنا چاہیے. Welcome to hell. کیونکہ ہمارے آنے کے بعد آپ لوگوں کا جینا دو بھر ہو جائے گا عینی کی آنکھوں سے نفرت کی چنگاریاں نکل رہی تھی. ارمان نے کندھے اچکائے دیکھتے ہیں کون جیتتا ہے ۔ ""تمہاری کھوکھلی نفرت یا میری سالوں پر محیط گاڑھی محبت ہنہہہ عینی نے تنفر سے سر جھٹکا". "پیار ہو یا نفرت ہم دونوں ہی بے حد کرتی ہیں اسکے لہجے میں برف کی سی ٹھنڈک تھی" "دونوں ہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کچھ لمحے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ ایک کی آنکھوں میں نفرت تھی تو دوسرے کی آنکھوں میں محبت کا بےپناہ ٹھاٹھے مارتا سمندر۔ عینی نے سر جھٹکا اور علی کے ساتھ تیزی سے نکلتی چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد سب لوگ منتشر ہوگئے اور ارمان ناک کی سیدھ میں چلتا ہوا اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔ سب ہی ایک دم پریشان نظر آنے لگے تھے۔ کوئی خوش تھا تو صرف احمد شہ اور انکی بیگم رقعیہ۔
0 Comments