Header Ads Widget

Responsive Advertisement


Urdu Nonvillains is a platform for all social media writers. Here you find variety of novels having different plot and concept about life of a human being who faces difficulties in every walk of life. 

Each story has its own moral every story teaches us a new lesson as it contains experience of every human life.

Here you find revenge based, Islamic based, Rude hero, Doctor, Lawyer based with many more exciting tragedies.

Badla is one of the fabulous novel that get attention by readers after reading it you will love this novel. Download this novel by clicking below the given link.

Badla By Arzoo Pareshy Khan

CLICK BELOW THE DOWNLOAD BUTTON

Sneak Peak No: 1

آہل نے ایک زور دار تھپڑ آئمہ کو دے مارا آئمہ نیچے گر گئی اور لزنے لگی۔۔۔۔
کیا کہا تھا سچ بولنا۔۔۔۔

پر میں تو سچ بول رہی ہوں۔۔۔
آپ کیا کہ رہے ہیں مجھے نہیں سمجھ آرہا۔۔۔
آئمہ کی بات پر آہل نے ایک اور تھپڑ سے نوازہ۔۔۔۔
آئمہ رونے لگی پر چپ تھی۔۔۔

بولو۔۔۔
آہل دھاڑا۔۔۔
میں سچ میں نہیں جانتی۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں بتاتا ہوں وہی جس کو تم نے پیسوں کے لیے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
پیار کا ناٹک کر کے ۔۔۔
یہ سب جھوٹ ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔
آہل نے پھر ایک تھپڑ مارا۔۔۔

لگتا ہے تم شرافت سے نہیں مانوگی آج اگر تم نے سچ نہیں بولا میں اپنا بیلٹ تم پہ توڑ دونگا۔۔۔۔

آئمہ پوری طرح کانپ گئی اور رونے لگی میں نے کچھ نہیں کیا ہے میں سچ کہ رہی ہوں۔ ۔۔
آپ کس نبیل کی بات کر رہے ہیں۔۔۔

کس نبیل کی مطلب۔۔۔؟؟؟،
کتنے نبیل کو دھوکا دے چکی ہو؟؟؟؟
آہل نے اس کے بال اپنے ہاتھوں میں جکڑے۔۔۔

آئمہ درد سے کہرا اُٹھی۔۔۔
پلیز مجھے چھوڑ دیں میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔
میں بس ایک نبیل کو جانتی ہو جو مجھے اپنی بہن مانتے تھے اور میں انہیں اپنا بھائی۔۔۔
وہ میرے کلاس فیلو تھے یونی میں آہل نے اب تک آئمہ کے بال جکڑے تھے۔۔۔
بھائی۔۔۔؟؟؟
آہل نے آئمہ کو زور دار دھکا دیا آئمہ دور جا گِری۔۔۔

کتنی ڈرامے باز ہو تم اب بھائی بنا لیا تم نے اسے جس کے ساتھ تم راتیں تک گذار چکی ہو۔۔۔۔
آئمہ کا یہ بات سن کے دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔

وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور آہل کے قریب آکے اسے کہا۔۔۔۔
کیا کہا آپنے۔۔۔؟؟؟
آہل کو آئمہ کا انداز حیران کر گیا اسے یہ سب نبیل نے بتایا تھا کے آئمہ اس کے بہت کلوز ہو چکی ہے اور وہ بھی کئی بار۔۔۔

اور ابھی اس نے جب حقیت بتائی تو آئمہ کا انداز اس کے اندازے کے بر عکس تھا۔۔۔
آئمہ رونا بھول کے بہادر بنی اسے سوال کر رہی تھی۔۔۔

جو تم نے سنا آہل کے جواب پہ آئمہ نے آہل کو تھپڑ سے نوازہ۔۔۔
جو آہل کو سُلگا گیا اس نے فوراً آئمہ کے بال جکڑ لیے تمہاری اتنی ہمت آوارہ لڑکی تم مجھ پہ ہاتھ اُٹھاؤ۔۔۔۔

جو بات آپنے کی اس کہلے بعد آپ اپنی عزت کروانے کو حق کھو چکے ہیں۔۔
اور مجھے آپ جیسے گھٹیا انسان کے ساتھ نہیں رہنا جس کی سوچ اتنی گھٹیا ہو آئمہ بغیر خوف سب کہ رہی تھی آہل کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔

اُس کا غصہ ساتویں آسمان پہ پہنچ گیا اور وہ اپنا ہوش کھو بیٹھا اور وہ سب بھول بیٹھا۔۔۔۔
میں گھٹیا انسان ہوں؟؟؟

آج تمہیں بتاتا ہوں گھٹایا پن کیا ہوتا ہے۔۔۔
آہل نے آئمہ کو دھکا دے کے بیڈ پر پھینکا اور دروازہ بند کردیا۔۔
آئمہ کی جان آدھی ہو گئی آہل کا انداز دیکھ کے۔۔۔

آہل اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور آئمہ پیچھے ہوتی جا رہی تھی اور دیوار سے جا لگی اور آہل نے اسے جکڑ لیا۔۔۔۔
آئمہ چھڑا کے بھاگی تو اس کا دوپٹہ آہل کہلے ہاتھ میں آگیا۔۔آئمہ کمرے میں بھاگنے لگی اور مدد کے لیے آواز دینے لگی۔۔۔



Sneak Peak No: 2

چھوڑیں مجھے ورنہ میں چیخ کے سب کو جمع کر لوں گی۔۔
اس کی بات پہ آہل ہنسا اور اس کے اور قریب آ کے کان میں سرگوشی کی۔۔
بلا لو ۔ ۔۔۔

پھر اپنا رشتہ بھی بتا دینا سب کو۔۔۔
آئمہ نے آہل کو دیکھا آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں کیوں میرے پیچھے پڑیں ہیں۔۔۔۔؟؟؟
آہل نے آئمہ کی بات نظر انداز کرتے ہوئے اس پہ اپنے پیار کی بارش کرنے لگا۔۔۔
آئمہ بن آواز تڑپنے لگی آنسو آنکھوں سے نکل کے رخسار پر ٹہر گئی۔۔۔

جنہیں آہل اپنے لبوں سے چنے لگا۔۔۔
چھوڑ دیں پلیز مجھے کیا چاہتے ہیں آپ مجھ سے آخر۔۔۔؟؟؟
آئمہ کی بات پر آہل نے آئمہ کو آزاد کیا اپنی گرفت سے اور کہا اب کی ہے تم نے کام کی بات۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم میرے ساتھ گھر چلو۔۔۔۔

میری بیوی بن کے رہو۔۔۔
کیوں۔؟؟؟
آئمہ کے سوال پہ آہل نے اسے دیکھا اور کہا۔۔۔
کیونکہ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔

یہ بات آپکو اب کیوں یاد آرہی ہے؟؟؟
آپنے تو کبھی مجھے اپنی بیوی نہیں مانا تو اب کیا مجبوری آن پڑی ہے آپ پہ جو آپ یہ سب کرنے آئے ہیں۔۔۔۔
دیکھو آئمہ۔۔۔۔
مجھے غلط فھمی ہو گئی تھی میں تمہیں کوئی اور سمجھ رہا تھا اور وہ سارے ظلم بھی میں نے کوئی اور
سمجھ کے کیے تھے۔۔۔
تم پہ۔۔۔

لیکن اب میں اصلیت جان گیا ہوں تو تمہیں لینے آیا ہوں۔۔۔۔
آپکو غلط فھمی ہوئی۔۔۔
اور آپکو سچ پتا چل گیا۔۔

اس سب میِں میں کہاں ہوں؟؟؟
بس آپ ہی آپ کو آپکو بس اپنا احساس ہے آپ نے کبھی سوچا میں کیا چاہتی ہوں آپ ہر بار مجھ پہ اپنا فیصلا نہیں تھوپ سکتے۔۔۔

اس بار فیصلا میرا ہوگا اور میرا فیصلا یہ ہے مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا اور ہو سکے تو مجھے آپ اس بی معنیٰ رشتے سے آزاد کردیں۔۔۔

آئمہ کا اتنا کہنا تھا کے آہل نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔۔۔۔
لگتا ہے تم بھول گئی ہو میری بات منع کیا تھا میں نے تمہیں مجھ سے ایسی کوئی بکواس دوبارہ مت کرنا لیکن تم باز ہی نہیں آتیں جب تک میں تمہیارے ساتھ کچھ کرون نہ۔۔۔۔

آئمہ آہل کے تیور دیکھ کے ڈر گئی۔۔۔
چھوڑیں مجھے۔۔۔
تم شکر کرو یہ اسکول ہے ورنہ تمہیں میں اس کا جواب بخوبی دیتا۔۔۔

لیکن میں جواب دونگا تمہیں اس بات کا تاکے تمہاری ہمت نہ ہو آئندا ایسے بات کرنے کی اب جاؤ یہان سے خوامخاہ یہیں نہ کچھ کر بیٹھوں۔۔۔
آہل نے ایک جھٹکے سے آئمہ کو آزاد کیا اور وہ چلی گئی۔۔۔


If you have any queries regarding downloading let us know by commenting below. After reading this novel also leave your precious comments below and let us know about your thoughts and novel selection which type of novels would you like to read????? and which type you want to be posted here we will try to bring novels according to your choice of selection. Thanks for Reading!!!!!!




. 

Post a Comment

0 Comments